کاروار،30؍جنوری (ایس او نیوز) ملک بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں روزانہ مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہاں تک کہ بعض ریاستوں میں فی لیٹر پٹرول کی قیمت سو روپے سے آگے نکل گئی ہے۔
اگر ریاست کرناٹکا کے مختلف اضلاع میں چل رہی قیمتوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ضلع شمالی کینرا میں اس وقت پٹرل کی قیمت سب سے زیادہ ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت تیسرے نمبر پر ہے۔
ضلع میں بی پی سی ایل، ایچ پی اور آئی او سی ایل پٹرول کمپنیوں کے 150سے زیادہ پٹرول بنک موجود ہیں۔ انگلیوں پر گننے لائق چند پٹرول بنک ریلائنس کمپنی کے بھی ہیں۔ دوسرے اضلاع کے مقابلے میں شمالی کینرا کے اندران تمام بنکوں میں قیمتیں زیادہ چل رہی ہیں۔ پچھلے تقریباً ایک ہفتے سے فی لیٹرپٹرول کی قیمت 90روپے زیادہ لگائی جارہی ہے، جبکہ ڈیزل 80 روپے سے زیادہ میں فروخت ہو رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی اس مہنگائی کے پیچھے وہ کئی قسم کے ٹیکس ہیں جو قیمت میں شامل کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے 50روپے فی لیٹر فراہم کرنے کے لائق پٹرول کو 90 اور 100روپے تک پہنچایا گیا ہے۔
ضلع شمالی کینرا پٹرول ڈپو نہ ہونے کی قیمت بھی گاہکوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔میں چونکہ منگلورو سے ٹینکروں کے ذریعے پٹرول پہنچایا جاتا ہے اس لئے 300کلو میٹر تک سفر کا خرچ بھی پٹرول کی قیمت میں جوڑ دیا جاتا ہے۔ منگلورو بندرگاہ میں آنے والا پٹرول اس ڈپو میں جمع کیا جاتا ہے تو تین پٹرول کمپنیوں نے تیار کر رکھا ہے۔ وہاں سے ضلع جنوبی کینرا اور اطراف کے اندر پٹرول آسانی کے ساتھ سپلائی کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح وہاں پر پٹرول رفت کرنے کا خرچ کم آتا ہے جس کی وجہ سے شمالی کینرا کے مقابلے میں کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح پڑوسی ریاست گوا کے مقابلے میں بھی شمالی کینرا میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 7روپے زیادہ چل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاروار چونکہ گوا کا سرحدی علاقہ ہے اس لئے متعدد افراد گوا جا کر اپنی گاڑیوں میں پٹرول بھرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔